علم اور ادب دل چھو لینے والی تحریر
ايک چھوٹا سا لڑكا P.C.O ميں داخل ہو كر ٹيليفون كيبن كی طرف بڑھا۔ اُس نے ریسیور کان سے لگایا، نمبر ڈائل کیا اور چند لمحوں بعد نہایت ہی شائستہ انداز میں کسی سے مخاطب ہوا۔
اُس کی گفتگو کا انداز اتنا نرالہ تھا کہ پی۔سی۔او کے مالک سے رہا نہ گیا اور وہ اُس لڑکے کی گفتگو بڑے انہماک سے سننے لگا۔
لڑكا کسی عورت سے مخاطب تھا اور اس سے کہہ رہا تھا:"ميڈم! آپ مجھے اپنے باغيچے كی صفائی ستھرائی اور ديكھ بھال كيلئے ملازم ركھ لیجئے، پلیز۔!"
جبکہ عورت كا جواب تھا كہ "فی الحال تو اُس كے پاس اِس كام كيلئے ايک ملازم ہے"۔
لڑكے نے اِصرار كرتے ہوئے اُس عورت سے كہا كہ "ميڈم! ميں آپكا كام، آپكے موجوده ملازم سے آدھی اُجرت پر كرنے كيلئے تيار ہوں"۔
اُس عورت نے جواب دیا كہ "وه اپنے ملازم سے بالكل راضی ہے اور كسی قيمت پر بھی اُسے تبديل نہيں كرنا چاہتی"۔
اب لڑكا باقاعده التجاء پر ہی اُتر آيا اور عاجزی سے بولا كہ: "ميڈم! ميں باغيچے كے كام كے علاوہ آپکا گھر، گھر كے سامنے والی گزرگاہ اور فٹ پاتھ كی بھی صفائی کرونگا اور آپكو کبھی شکایت کا موقع نہیں دونگا، بس مجھے ایک موقع دے دیں۔!"
اور اِس بار بھی اُس عورت كا جواب نفی ميں تھا۔ لڑكے كے چہرے پر ايک مسكراہٹ آئی اور اُس نے فون بند كر ديا۔
۔P.C.O کا مالک جو يہ ساری گفتگو سن رہا تھا اُس سے رہا نہ گیا اور وہ لڑكے كی طرف بڑھا اور اُس سے كہا: "بیٹا! ميں تمہارى بلند ہمت کی داد ديتا ہوں۔ تمہاری لگن، مثبت سوچ اور اُمنگوں كا احترام كرتا ہوں، ميں چاہتا ہوں كہ تم ميری اس دكان پر كام كرو۔۔!"
لڑكے نے اُسکی طرف مسکرا کر دیکھا اور کہا،"انکل! آپ كی پیشکش كا بہت شكريہ، مگر مجھے كام نہيں چاہيئے۔ ميں تو صرف اِس بات كی تصديق كرنا چاہ رہا تھا كہ ميں آجكل جو كام كر رہا ہوں كيا اُس كا معيار قابلِ قبول ہے بھی يا نہيں؟"
"اور ميں اِسی عورت كے پاس ملازم ہوں جِس كے ساتھ ميں ٹيليفون پر گفتگو كر رہا تھا۔۔!"
Ilm o Adab علم و ادب
Comments
Post a Comment