مسلمان سائنسدان

اج میرے علاقے کے مقامی کالجز کیلئے حیران کن دن تھا۔ ہم نے متعدد اداروں کا دورہ کیا۔ انھیں عصر حاضر کے چیلنجز اور مدرسے و سکول کی ناقص نصابی کارکردگی پر بریف کیا۔
فضا اس وقت بہت دلچسپ ہوگئی۔ جب ہم نے مسلمان سائنسدان قانون دان سوشل سائنسدان طبیب ارکی ٹکچر ماسٹرز انجینئرز کی تاریخ کو بیان کیا
نوجوانوں کیلئے وہ لمحات حیرت انگیز تھے۔ جب ہم نے عظیم مسلمان سائنسدان نورالدین البطروجی کا وہ کارنامہ بتایا جس میں انھوں نے انکشاف کیا تھا کہ سورج مختلف گیسوں کے جلنے سے روشن ہوتا ہے۔ عبدالرحمن الصوفی نے کائنات کا گلیکسی سسٹم دریافت کیا ہے۔ عمر بن خیام نے دن کو گھنٹوں منٹوں اور پھر سیکنڈوں تقسیم کیا۔ ابو احمد دینوری نے پودے کو جاندار کہا اور اسکا جنسی سسٹم دریافت کیا۔ عباس ابن فرناس نے عینک ٹی وی (تصاویر کو ریل پر اسطرح چلایا جاتا کہ وہ حرکت کرتی محسوس ہوتی تھی ) اور غوطہ خوری کے الات ایجاد کئے۔ جابر بن حیان نے ایسا کاغذ ایجاد کیا جس پر اگ اور پانی اثرانداز نہیں ہوسکتے تھے جبکہ اسکے لفظ اندھیرے میں چمک اٹھتے تھے۔ ابن سینا نے جراثیم دریافت کئے۔ ابو عبداللہ البتانی نے چاند کی منزلوں پر سائنسی تحقیق پیش کی۔ حسن اور احمد دونوں بھائیوں نے چھوٹی مشینری ایجاد کی۔ جبکہ الرازی نے گراری ایجاد کرکے انجئئنرنگ کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ۔۔۔۔ (لسٹ خاصی لمبی ہے )
اخر میں ہم نے سوال اٹھایا کہ وہ کون محرکات تھے جس نے مسلمان قوم کو اس قدر ذہین بنا دیا کہ ہر گھر سے ذہانت کے سمندر اچھلنے لگے۔ جبکہ پوری دنیا میں مسلمان کو الگ اور اعلی پائے کی مخلوق سمجھا جانے لگا۔ یہاں تک کہ ان کی طرح بولنا اور چلنا فیشن بن گیا ۔۔۔ یوں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسلام کی طرف مائل ہوئی
لیکچر کے اختتام تک پر ہر انکھ اشکبار تھی۔ ہر نظر میں یہی سوال تھا کہ اج ہمیں یہ سب کیوں نہیں بتایا جاتا ۔۔۔۔ ہمیں ان جیسی تربیت کیوں نہیں دی جا رہی ۔۔۔۔۔
میں نوجوان ذہنوں میں ہزاروں سوال چھوڑ کر نکل ایا اور مسجد میں اپنے اہم مشن کی کامیابی کیلئے رو کر دعا مانگی
بشکریہ
ایم عمران ادیب
 YouTube channel: expose world

Comments

Popular posts from this blog

‎موٹیویشنل سپیکر ‏ ‏کی ‏خامیاں ‏

نسوار کیا ہے

کچھ ایسے سوالات جن کے جوابات فل حال سائنس تلاش کر رہی ہے