خلائے بسیط پر قدم دھرنے والے دنیا کے پہلے خلاباز کی آپ بیتی

خلائے بسیط پر قدم دھرنے والے دنیا کے پہلے خلاباز کی آپ بیتی
سوویت یونین(روس) کا میجر یوری گاگرین پہلا انسان ہے جو ’’وستوک اول‘‘ میں بیٹھ کر خلا میں پہنچا اور زمین کے گرد چکر لگایا۔ یہ واقعہ 12 اپریل 1961ء کو پیش آیا۔یوں خلا میں پہلے پہنچنے کے مقابلے میں روسیوں نے امریکا کو شکست دے ڈالی۔ وہ 9 مارچ 1934ء کو پیدا ہوا اور 17 مارچ 1968ء کو ایک حادثے میں چل بسا۔ اس مختصر سی زندگی میں بھی وہ امر ہوگیا۔فوجی ہونے کے باوجود امن کے اِس شیدائی کا ’’ٹریڈ مارک‘‘دل موہ لینے والی مسکراہٹ تھی۔ گاگرین کی تاریخ ساز پرواز اور حیات سے درج ذیل خصوصی مضمون اس کی سوانحی تحریروں سے مرتب کیا گیا ہے۔
٭٭
میرے والد، الیکسی آئیون وچ گاگرین غریب کسان کے بیٹے تھے۔ وہ صرف دوسری جماعت تک تعلیم حاصل کرسکے تھے مگر ان کا ذہن بڑا متجسس اور کھوجی تھا۔ اس لیے ’’اپنی تعلیم آپ‘‘ کے اعتبار سے وہ خاصے دانا و بینا تھے۔ ہمارے گاؤں، کلوشینو میں ہر کوئی انہیں ’’ہر فن مولا‘‘ کے لقب سے یاد کرتا۔ یہی خصوصیت ان کی وجہ شہرت بھی تھی۔
وہ تمام چھوٹے بڑے کام کرلیتے جو ایک کاشت کار کو کرنا پڑتے ہیں۔ لیکن وہ بڑھئی اور مستری بھی عمدہ تھے۔ ایسا اچھا فرنیچر بناتے کہ لوگ دنگ رہ جاتے۔ مجھے یاد ہے، لکڑی کا پیلا پیلا برادہ ان کے ہاتھوں اور چہرے سے یوں چمٹا رہتا جیسے اصل مسام وہی ذرات ہوں۔ آج بھی دکان کا منظر حافظے میں جاگ جائے، تو ایک ایک لکڑی کی خوشبو میرے وجود میں بیدار ہوجاتی ہے… میپل کی میٹھی میٹھی مہک، بلوط کا کسیلا پن اور انناس کی دل میں اتر جانے والی خوشبو۔
میرے نانا، تموفی متویف پیٹروگریڈ کے ایک کارخانے میں فورمین تھے۔ والدہ بتایا کرتی تھیں کہ وہ بڑے مضبوط ہاڈ کے آدمی تھے اور سخت محنتی۔ کبھی خالی نہ بیٹھتے۔ ایسے ہنرمند تھے کہ فولادی کیل کو ہتھوڑے سے کوٹ کوٹ کر پھول بنا دیتے۔ میں نے اپنے نانا کو نہیں دیکھا کیونکہ وہ میری پیدائش سے قبل ہی فوت ہوگئے۔ لیکن گھرمیں ان کا تذکرہ اتنی اپنائیت سے ہوتا جیسے وہ زندہ ہوں۔ چناں چہ نانا کی شخصیت کا سایہ ہمیشہ میرے ساتھ رہا۔

میری والدہ، اینا تموفینا بھی تعلیم یافتہ نہیں تھیں مگر ان کی بھی متجسس طبیعت نے بغیر پڑھے انہیں بہت کچھ سکھا بتادیا۔ ہم بچے ان سے کوئی سوال پوچھتے تو وہ اعتماد سے جواب دیتیں۔ ہم چار بہن بھائی تھے۔ میں تیسرے نمبر پر تھا۔
…٭…
ایک اتوار کی بات ہے، والد خلاف توقع دکان سے جلد گھر چلے آئے۔ میں نے انہیں اتنا پریشان اور متفکر پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ گھر میں آتے ہی ان کی زبان سے صرف ایک لفظ نکلا: ’’جنگ!‘‘
یہ سن کر والدہ بھی پریشان ہوگئیں۔ انہوں نے چہرہ اپنی چادر سے ڈھانپا اور ان کی آنکھیں آبدیدہ ہوگئیں۔ ہر طرف مایوسی کا اندھیرا چھاگیا۔ افق پر بادل منڈلانے لگے۔ گاؤں میں ہر وقت زندگی گنگنایا کرتی تھی، اب اسے بھی چپ لگ گئی۔ ہمارا کھیلنا بھی خود بخود بند ہوگیا۔
اگلے دن گاؤں والے ایک بڑے میدان میں جمع ہوئے۔جو نوجوان تھے، وہ ایک طرف ہوگئے۔ پھر وہ لوگ بھی ان کی صف میں جاشامل ہوئے جنہیں گاڑی چلانا، مرہم پٹی کرنا وغیرہ آتا تھا۔ وہ سب لوگ ایک ٹرک میں بیٹھ گئے۔ ٹرک چلا، تو سب نے ہاتھ ہلا کر انہیں الوداع کہا۔ وہ وطن کی حفاظت کرنے کے لیے محاذ جنگ پر جارہے تھے۔
…٭…
دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو ہم نزدیکی قصبے، گزتسک چلے گئے۔ وہیں میں ایک سکول میں داخل ہوا۔ ایک روز میرے ذہن میں یہ عجیب سوال پیدا ہوا کہ میں بڑے ہوکر کیا بنوں گا؟ میں خوب پڑھنا چاہتا تھا مگر جانتا تھا کہ میرے غریب والدین میں اتنی سکت نہیں کہ مجھے اعلیٰ تعلیم دلواسکیں۔
ہماری حالت شروع ہی سے ناگفتہ بہ تھی۔ جو آمدن ہوتی، وہ چھ نفوس کا پیٹ بھرنے پر خرچ ہوجاتی۔ میں نے سوچا کہ پہلے میں کوئی ہنر سیکھوں گا۔ ہنر سیکھ کر کسی کارخانے میں ملازمت کرلوں گا۔ اور ساتھ ساتھ پڑھائی بھی جاری رہے گی۔ میرے چچا ماسکو رہتے تھے۔ انہوں نے میرے والد کوکہا کہ مجھے ماسکو بھجوادیں تاکہ یہ کچھ بن سکے۔
لیکن میرے والدین نے انکار کردیا۔ وہ مجھ سے بہت محبت کرتے تھے اور میری جدائی برداشت نہ کرپاتے۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ سولہ سالہ لڑکا چھوٹا سا بچہ ہے۔ حالانکہ جب وہ میری عمر کے تھے، تو شبانہ روز محنت کرتے تھے۔ آخر کار وہ مان گئے اور مجھے چچا کے پاس ماسکو بھجوا دیا گیا۔
…٭…
ماسکو میں مجھے ایک سٹیل مل میں بہ حیثیت اپرنٹس ملازمت مل گئی۔ مجھے فاؤنڈری مین کا کام سیکھنا تھا۔ شام کومیں ایک سکول میں جاتا جہاں مزدوروں کے بچے پڑھتے تھے۔ سکول والوں نے ہی مجھے زندگی کی پہلی وردی دی… ایک ٹوپی جس کی ترچھی نوک پر سکول کا نشان بنا تھا۔ صاف ستھری قمیص، پتلون، جوتے، کوٹ اور پیٹی جس کا بکسوا خوب دمکتا تھا۔
میں نے وردی پہنی، تو میرے جسم پر موزوں بیٹھی۔ دل میں ترنگ آئی، تو وردی میں اپنی تصویر کھنچوالی۔ میری جیب خالی ہوگئی۔ مگر جب پرنٹ ملے تو وہ اتنے خوبصورت تھے کہ میں خوشی سے جھوم اٹھا۔ مجھے

Comments

Popular posts from this blog

‎موٹیویشنل سپیکر ‏ ‏کی ‏خامیاں ‏

نسوار کیا ہے

کچھ ایسے سوالات جن کے جوابات فل حال سائنس تلاش کر رہی ہے