Posts

فنکار ‏ڈاکو

💰 فنکار ڈاکو 💰            میں پوری قوت سے بھاگ رہا تھا پولیس کے دو سپاہی صرف دو قدم کے فاصلے پر میرے پیچھے اسی سپیڈ سے بھاگ رہے تھے ایک سپاہی گندی گالیاں نکال رہا تھا اور کہہ رہا تھا رُک جا تُو بچ جائے تجھے کچھ نہیں کہوں گا  لیکن مجھے پتہ تھا پولیس والوں کا وعدہ کتے کی دم جیسا ہوتا ہے جسے چھوڑیں تو فطرت کے مطابق مُڑ جاتی ہے  اگر آج میں موقع واردات سے پکڑا گیا توپولیس والوں نے سب سے پہلے مجھے مارمار کر ادھ مووا کر دینا ہے کیونکہ میں اُن سےایک شکاری کے ہاتھ سے پھسلی ہوئ مچھلی کی طرح نکل کے بھاگا تھا   میں انتہائ دبلا پتلا تھا پر وہ دونوں سخت جان پینڈو تھے پچھلے دس بارہ منٹ سے مسلسل تیز سپیڈ سے میرے پیچھے بھاگ رہے تھے تھک ہی نہیں رہے تھے  اچانک میرے سر پر انتہائ زور سے کوئ سخت اور بھاری چیز لگی شدید درد کی اک لہر میرے جسم میں سرائیت کر گئ میری آنکھوں کے سامنے ایک لمحے کیلئے اندھیرا چھا گیا لیکن میں رکا نہیں اور پوری قوت سے اپنے اعصاب  کو قابو کیا اور بھاگتا رہا  تھوڑا آگے جاکر مجھے بوٹوں کی آواز آنی بند ہوگئ میں نے رفتار تھوڑی ک...

موت ‏ایک ‏آفاقی ‏سچ

#تصور_موت موت ایک آفاقی سچ (universal truth) ہے۔ یہ اِس دنیا کی واحد حقیقت ہے جس پر سب کا اتفاق ہے۔ یہ کیسی عجیب حقیقت ہے کہ خدا اور آخرت پہ یقین نہ رکھنے والا بھی موت کے آنے پر یقین رکھتا ہے۔ یہ یقین ہی ہے کہ موت سے بچنے کے لیے انسان بیماریوں سے لڑنے، حادثات سے بچنے اور لمبی عمر پانے کے طریقے ڈھونڈتا آرہا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق موت عمل (action) پر اُ کسانے والا سب سے بڑا محرّک  (motivator) ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان تصوّرِ موت سے بہت زیادہ تحریک پاتا ہے۔ یہ تحریک کیسی اور کتنی ہوسکتی ہے اس کا انحصار انسان کے رویہ پر ہے۔ اس حوالے سے دو رویے ہمارے سامنے آتے ہیں، پہلا رویہ مثبت ہے اور دوسرا منفی۔ مثبت رویہ یہ ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور موت اِس زندگی کا اختتام نہیں بلکہ ایک وقفہ ہے۔ اِس وقفہ کے بعد بروزِحشر زندگی ایک نئے اور ابدی روپ میں دوبارہ شروع ہوگی۔ یہ رویہ اپنانے والا انسان ایک محتاط اور آخرت رُخی زندگی گزارتا ہے جس سے اُس میں یقین، عاجزی اور محاسبہ جیسی اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں۔ منفی رویہ یہ ہے کہ دنیا کی یہ زندگی ہی فقط زندگی ہے۔ اِس کے بعد کچھ نہیں اور ...

کیمرا ‏اور ‏فلم ‏کی ‏معلومات

آپ نے کبھی سوچا ہے کہ فلموں اور ٹی وی میں گاڑی تو آگے کی طرف جا رہی ہوتی ہے  لیکن اسکے ٹائر کیوں پیچھے جا رہے ہیں  یہ سارا فریمز کا چکر ہوتا ہے ویڈیو دراصل مختلف تصویروں کا مجموعہ ہے  اور ان تصویروں کو ویڈیو کی زبان میں فریمز کہا جاتا ہے  آپنے یوٹیوب یا سوشل میڈیا پر ویڈیوز دیکھی ہونگی  جس میں ایک بندہ کارڈز پر کارٹون بنا کر انکو تیزی سے گھماتا ہے  اور آپکو کارڈ پر بنا ہوا کیرکٹر حرکت کرتے دکھائی دینے لگتا ہے  کیمرہ بھی ویڈیو اسی اصول کے تحت ریکارڈ کرتا ہے  میں آپکو فریمز کے بارے میں سمجھا لوں تاکہ آپکو  ویل ایفکٹ سمجھنے میں آسانی ہو آپنے کبھی موبائل پر ویڈیو بنائی ہوگی  یا دیکھی ہوگی  تو آپکو پتا ہے  ایک دس سکینڈ کی  30fps میں ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں آپکو  300 frames  نظر آئے ہیں  یعنی آپ نے تین سو تصویریں دس سیکنڈ میں دیکھی ہیں  موبائل کی کیمرہ سیٹنگز میں جھانکیں تو وہاں  دو سیٹنگز دیکھنے کو ملتی ہیں  Resolution (720p,1080p,4k) +  FPS (24,30,60,120,240,480,960) وغیرہ  عام اور سستے ...

ڈیپرش ‏کیا ‏ہے ‏اور ‏کیسے ‏ہوتا ‏ہے ‏

ڈپریشن کیا ہے؟؟؟؟ _________________ ڈپریشن کوئی اچانک پیدا ہونے والی بیماری نہیں ہے۔۔۔ یہ کوئی وبائی بیماری نہیں ہے۔۔۔ لیکن اگر ایک نارمل انسان کئی ''ڈپریسڈ'' لوگوں میں وقت گزارے۔۔۔ تو بالآخر یہ بھی وبا کی صورت اختیار کرکے نارمل فرد کو بھی ڈپریسڈ کردیتی ہے۔۔۔ زیادہ تر ڈپریشن کا سبب چھوٹی چھوٹی پریشانیاں۔۔۔ اور قطرہ قطرہ خیالات بنتے ہیں۔۔۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک انسان اپنے کاندھے سے رسی باندھے۔۔۔ اور اس رسی کے آخری سِرے پر مقناطیس لگا ہو۔۔۔ اب وہ جہاں سے گزرتا ہے۔۔۔ طاقتور مقناطیس چھوٹے بڑے ذرات اپنے ساتھ چپکاتا چلا جاتا ہے۔۔۔ اگر فرد اس میٹیریل، ان ذرات کو صاف نہ کرتا رہے۔۔۔ تو اپنے ہی کاندھوں پر بوجھ بڑھے گا اور بالآخر کندھے جھک جائیں گے۔۔۔ ایسے ہی۔۔۔ ہمارا دماغ ایک طاقتور مقناطیس کی طرح کام کرتا ہے۔۔۔ یہ روزانہ، چوبیس گھنٹے۔۔۔ جگہ جگہ سے مختلف باتیں۔۔۔ مختلف سوچیں۔۔۔ مختلف طعنے۔۔۔ طرح طرح کی گالیاں۔۔۔ قسم قسم کے خیالات۔۔۔ اپنے ساتھ چپکاتا چلا جاتا ہے۔۔۔ اب اگر فرد فوری ان خیالات سے چھٹکارا حاصل نہ کرے۔۔۔ تو یہی خیالات، طعنے، گالیاں، باتیں اور سوچیں مل کر ایک لوہے...

‎موٹیویشنل سپیکر ‏ ‏کی ‏خامیاں ‏

ہر شخص کاروبار نہیں کر سکتا۔ دوہزار روپے دے کر کسی موٹیویشنل سپیکر کا انٹرپرینورشپ پہ لیکچر لینے کی بجائے ان پیسوں سے فیملی کو آؤٹنگ کرانا بہتر ہے۔ تمام کے تمام جانوروں کو تو ایک کام پہ سدھایا جا سکتا ہے مگر انسانوں کو نہیں۔ ہمارے موٹیویشنل اسپیکر ایک بہت فینسی ٹرم انٹرپرینوشپ کا استعمال کرکے سادہ لوح لوگوں کو لوٹتے ہیں اور وہ بیچارے مستقبل کے سہانے خواب لئے لُٹ جاتے ہیں۔ ان کے پاس جا کر لُٹ جانے سے بہتر ہے کہ آپ روز کا کچھ وقت خود کو دیں۔ اپنی شخصیت کو اینالائز کریں ، تجزیہ کریں کہ آخر وہ کونسا کام تھا جسے کرکے آپ کو خوشی اور کامیابی دونوں با آسانی مل گئے تھے۔ دراصل آپ بنے ہی اس کام کے لئے ہیں جو آپ با آسانی کرلیتے ہیں اور اس میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے کی ایک خامی یہ بھی ہے کہ ہم لوگ دنیا جہان کی ہر چیز جاننے کی کوشش میں جت جائیں گے۔ مگر ہماری ذات کن چیزوں کی طرف مائل ہے اسکے رجحان کیا ہیں انہیں خود جاننے کی بجائے کسی موٹیوشنل سپیکر کے پیچھے لگ کر اس کی ذات کے مطابق کام کرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ موٹیویشنل سپیکرز کے مطابق (دیسی سپیکرز کے مطابق) گدھے اور گھوڑے ایک ہی صف میں ک...

کیمرا ‏اور ‏فلم ‏کی ‏معلومات

آپ نے کبھی سوچا ہے کہ فلموں اور ٹی وی میں گاڑی تو آگے کی طرف جا رہی ہوتی ہے  لیکن اسکے ٹائر کیوں پیچھے جا رہے ہیں  یہ سارا فریمز کا چکر ہوتا ہے ویڈیو دراصل مختلف تصویروں کا مجموعہ ہے  اور ان تصویروں کو ویڈیو کی زبان میں فریمز کہا جاتا ہے  آپنے یوٹیوب یا سوشل میڈیا پر ویڈیوز دیکھی ہونگی  جس میں ایک بندہ کارڈز پر کارٹون بنا کر انکو تیزی سے گھماتا ہے  اور آپکو کارڈ پر بنا ہوا کیرکٹر حرکت کرتے دکھائی دینے لگتا ہے  کیمرہ بھی ویڈیو اسی اصول کے تحت ریکارڈ کرتا ہے  میں آپکو فریمز کے بارے میں سمجھا لوں تاکہ آپکو  ویل ایفکٹ سمجھنے میں آسانی ہو آپنے کبھی موبائل پر ویڈیو بنائی ہوگی  یا دیکھی ہوگی  تو آپکو پتا ہے  ایک دس سکینڈ کی  30fps میں ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں آپکو  300 frames  نظر آئے ہیں  یعنی آپ نے تین سو تصویریں دس سیکنڈ میں دیکھی ہیں  موبائل کی کیمرہ سیٹنگز میں جھانکیں تو وہاں  دو سیٹنگز دیکھنے کو ملتی ہیں  Resolution (720p,1080p,4k) +  FPS (24,30,60,120,240,480,960) وغیرہ  عام اور سستے ...

موت ‏کا ‏راز

موت کو اس لیے خوفناک رکھاگیاہے کہ اگر اِس کی دلکشی حیاتِ ارضی پر عیاں ہوتی تو حیات کا بقا ناممکن تھا۔ ہرکوئی خوشی سے مرنا چاہتا اور یوں سب ہی مرجاتے۔ میں اکثر کہا کرتاہوں کہ خودکشی کو بھی اسی لیے حرام قرار دیا گیا ہے کہ اگر بفرضِ محال اِس کے برعکس کہہ دیا جاتا کہ ’’خودکشی ثواب ہے یا اس کا اجر ہے یا یہی کہ یہ بہادری ہے اور اچھی چیز ہے‘‘ تو کون جینا چاہتا؟ موت کا نام ہی برا ہے۔ جیسے کالی بلا۔ جیتا جاگتا انسان سیکنڈوں میں خاک ہوجاتا ہے۔ اس کا جسم جو عناصر کا ظہور ترتیب تھا گلنے سڑنے لگتاہے۔ اس سے بدبُو اُٹھنے لگتی ہے اور وہ دنوں میں ڈی کمپوز ہوکر مٹی میں مل جاتاہے۔ جانور ہو یا انسان یہ سب کے ساتھ ہوتاہے اور یوں سب ہی اِس موذی قسم کے فنا سے گھبرائے گھبرائے سے رہتے ہیں۔ مذہب نے البتہ یہ دعویٰ کررکھاہے کہ جسم کی موت واقع ہوجانے سے دراصل موت واقع نہیں ہوتی۔ اس دعویٰ کے حق میں مذہب نے کبھی کوئی حسّی ثبوت پیش نہیں کیا۔ مذہب کے اس دعویٰ کے حق میں سائنس کو بھی کبھی کوئی ثبوت نہیں مل سکا اس لیے سائنس یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ مرنے کے بعد بھی زندگی کا تسلسل ہوسکتاہے۔ ہرمذہب نے اپنے اپنے ...