Posts

سائنسی موت

#سائنسی_موت  موت کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں، مگر کیا آپ جانتے ہیں سائنسی طور پر موت کی بنیادی وجہ کیا ہے ؟ "سائنس کے مطابق موت تب ہوتی ہے جب دماغ مردہ ہوجائے۔ اس عمل کو "Biological death" کہا جاتا ہے۔ موت کی چاہے کوئی بھی وجہ ہو، ایک انسان یا جانور تب مرتا ہے جب اسکے دماغ کے خلیے اتنی تعداد میں مردہ ہو جائیں کہ دماغ اور جسم کا رابطہ منطقہ ہوجائے جس وجہ سے جسم کوئی بھی اندرونی یا بیرونی فعل انجام نہ دے سکے (کیونکہ جسم کو زندہ رہنے کے لیے ضروری سب فعل انجام دینے کے سگنل دماغ سے ہی آتے ہیں) اور اس صورتحال کو واپس بدلا نہ جاسکے۔"  لیکن سائنس موت کی ایک اور بنیادی وجہ بھی بتاتی ہے جسے "clinical death" کہا جاتا ہے۔ Clinical death تب ہوتی ہے جب ایک انسان کا دل، گردشِ خون اور سانس کا نظام رک جائے۔ پھر یہی clinical death انسان کو Biological death کی طرف ہے جاتی ہے۔ یعنی کہ اگر کسی کے دل کی دھڑکن رک گئی جس وجہ سے اسکے خون کی گردش رک گئی جس وجہ سے اسکے دماغ کے خلیوں کو آکسیجن اور خوراک نہیں ملے گی اور دماغی خلیوں کی موت واقع ہوجائے گی (Biological death) سو اس طرح س...

انسانی دماغ کی ‏حیرت ‏انگیز ‏معلومات

انسانی دماغ ٹھوس نہیں ہوتا بلکہ لچکدار ہوتا ہے اور اسکا %73 حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔ اسکا وزن صرف 1300گرام سے 1400 گرام تک ہوتا ہے۔ اور حیران کن طور پر یہ ایک کھرب خلیات پر مشتمل ہوتا ہے یہ تعداد قریب قریب اتنی ہی ہے جتنے ہماری کہکشاں ملکی وے میں ستارے ہیں۔ ان خلیات کی بھی دس ہزار اقسام ہیں اسکا سائز مکمل جسم کا صرف %2 ہوتا ہے لیکن یہ کل توانائی کا بیس فیصد استعمال کرتا ہے اسکے مختلف حصے اپنا کام بخوبی سر انجام دیتے ہیں____ دماغ کا ہر خلیہ اپنے آپ میں کمپیوٹر کی طرح کام کرتا ہے پھر یہ سارے آپس میں مربوط ہوتے ہیں۔ یوں سمجھ لیں ان میں Networking ,ھوتی ھے۔ جس کی وجہ سے یہ مل کر فیصلہ کرتے ہیں یاداشت محفوظ کرنے والا حصہ اتنی صلاحیت رکھتا ہے کہ 2.5 پیٹا بائیٹ میموری محفوظ کر سکتا ھے۔ سادہ الفاظ میں تقریباً پچیس لاکھ گیگا بائیٹس کا ڈیٹا محفوظ کیا جا سکتا ھے____ دماغ کے خلیات کو خون سپلائی کرنے والی نالیاں اتنی باریک ہوتی ہیں کہ بمشکل نظر آتی ہیں لیکن صرف دماغ میں انکی طوالت اتنی ہوتی ہے کہ بالفرض محال انکو آپس میں جوڑ دیا جائے تو 120000 کلومیٹر لمبائی بنے گی دماغی خلیات ایک دوسرے کو 432 کل...

جگر ‏خراب ‏ہونے ‏کی ‏ابتدائ ‏علامات

جگر کا درست طریقے سے کام کرنا متعدد وجوہات کے باعث اچھی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے یں کسی بھی قسم کی خرابی یا بیماری کی صورت میں جو علامات سامنے آتی ہیں وہ بھی اکثر افراد نظر انداز کردیتے ہیں۔یہاں جگر کو نقصان پہنچنے کی ایسی ہی خاموش علامات کا ذکر کیا گیا ہے جن سے واقفیت ہر ایک کے لیے ضروری ہے۔معدے میں گڑبڑدل متلانا اور قے آنا جگر میں خرابی کی ابتدائی علامات ہوسکتی ہیں جو عام طور پر ڈپریشن، فوڈ پوائزننگ اور آدھے سر کے درد جیسے امراض کے ساتھ بھی سامنے آتی ہیں۔ تاہم جگر کے امراض میں ہر وقت دل متلاتا رہتا ہے جو جگر میں نقصان کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا جب میٹابولزم اور نظام ہاضمہ میں جگر کی خرابی کی وجہ سے تبدیلیاں آتی ہیں، اگر ہر وقت متلی، قے اور معدے میں خرابی کی شکایت ہو تو طبی مدد کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے جگر پر چربی چڑھنے کی کوئی جسمانی علامت نہیں ہوتی اور بظاہر خون کے ٹیسٹ یا جگر کے معائنے کے بغیر اس کی شناخت ممکن نہیں ہوتی، مگر جگر کے امراض کی شدت بڑھ رہی ہو تو تھکاوٹ اور کمزوری جیسی علامات ضرور سامنے آسکتی ہیں۔ اگر آپ کو ہر وقت تھکاوٹ اور کمزوری کا احساس ہوتا ہ...

آج سے ‏سو ‏سال ‏بعد

آج سے 100 سال بعد مثال کے طور پر 2121 میں ہم سب اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ زیر زمین ہوں گے, اور اجنبی ہمارے گھروں میں رہیں گے اور ہماری جائیداد غیر لوگوں کی ملکیت ہوں گی, انہیں ہماری کچھ یاد بھی نہیں رہے گی ابھی بھی ہم میں سے کون اپنے دادا کے باپ کا سوچتا ہو گا .. ہم اپنی نسلوں کی یاد میں تاریخ کا حصه بن جائیں گے، جبکہ لوگ ہمارے نام اور شکلیں بھول جائیں گے.  سو سال میں کئی اندھیرے اور ٹھہراؤ آئیں گے تب ہمیں اندازہ ہوگا کہ دنیا کتنی معمولی تھی، اور سب کچھ اور دوسرے سے زیادہ پا لینے کے خواب کتنے نادان اور خسارے کی سوچ کے حامل تھے، اور ہم چاہیں گے کہ اگر ہم اپنی ساری زندگی نیکیاں سمیٹتے اور نیکیاں کرتے ہوئے گزاریں تو وه موقع آج ھمارے پاس خوش قسمتی سے موجود ھے.. جب تک ہم باقی ہیں۔۔  ابھی زندگی باقی ہے ۔۔ غور کریں اور بدلیں..  اے اللہ ہمیں ہدایت دے.. اے اللہ ہمارا انجام اچھا کر..

خون ‏دینے ‏کے ‏فائدے

*سوال: خون دینے کا سب سے بڑا نقصان کیا ہے؟* جوآب: خون دینے کا نقصان کوئی نہیں البتہ بڑا فائدہ ہے کہ ریگولر  خون دینے والے فرد کو دل کے دورے اور کینسر کے چانسس باقی افراد کے مقابلے میں %95 کم ہوتے ہیں۔ یہ ریسرچ امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کی ہے۔ *سوال: کسی کو خون کا عطیہ دینے کے بعد کتنے دنوں میں خون بن جاتا ہے ؟* جواب: خون عطیہ کرنے کے تین دن میں کمی پوری ہو جاتی ہے جبکہ 56 دنوں میں خون کے مکمل خلیات بن کر تازہ خون رگوں میں دوڑنے لگتا ہے۔ *سوال:پرانا خون زیادہ طاقتور ہوتا ہے یا نیا بننے والا ؟* جواب: نیا بننے والا خون پرانے کی بنسبت زیادہ فریش اور طاقتور ہوتا ہے۔ *سوال:  خون دینے کے فوائد کیا ہیں ؟* جواب:  خون دینے کا سب سے بڑا فائدہ ایک تو صدقہِ جاریہ میں حصہ ڈالنا ہے جو قیامت تک نسل درنسل آپ کیلئے ثواب کا موجب ہے۔ اس کا دوسرا بڑا فائدہ خون میں آئرن کی مقدار بیلنس رکھنا اور سب سے بڑا  فائدہ صحت مند اور فریش زندگی گزارنا ہے۔ ریگولر خون دینے والے کی جلد دوسروں کی بنسبت زیادہ عرصے تک جوان اور صحتمند رہتی ہے۔ اس کا ایک فائدہ مفت میں خون کی اسکرینگ بھی ہے۔ *سوال: خون سال م...

زندگی ‏کیا ‏ہے

زندگی کیا ہے ؟ زندگی کا کوئی ایک مطلب نہیں ہے اور نہ ہی زندگی کو ایک لائن میں بیان کیا جا سکتا ہے ہر کوئی اپنے تجربات کی بنیاد پر بولتا ہے کسی کے لیے زندگی مسلسل امتحان اور کسی کے لیے زندگی موت کا انتظار،کسی کے لیے زندگی سفر ہے اور کسی کے لیے زندگی بہت سی منزلوں پر پہنچ جانے کا نام ہے۔کسی کے لیے زندگی شکر گزاری کا نام ہے اور کسی کے لئے زندگی اللہ تعالی کی عطاوں کو جینے کا نام ہے۔۔۔ مگر میری نظر میں زندگی صرف زندگی ہے جس میں  کبھی خوشی ہے کبھی غم ہے۔۔۔کبھی خوف ہے کبھی پیار ہےکبھی صبر اور کبھی آزمائش  کبھی ہم چھوٹی سی  چیز سے گھبرا جاتے ہیں اور کبھی بڑی آزمائشوں کو ہنس کر قبول کر لیتے ہیں۔۔۔ بس وہ لوگ جو زندگی کا مقصد سمجھ جاتے ان کے لیے زندگی کا مطلب اتنا ہی بڑا ہوتا ہے۔۔ اللہ تعالی  سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم سب کو صحت ایمان اور سکون والی زندگی عطا کرے آمین۔۔۔ #AyeshaMehar #MakeMindPositive

زندگی ‏صرف ‏آپکی ‏سوچ ‏

:::"زندگی صرف آپ کی سوچ"::: کسی ریاست میں ایک بہت امیر شخص رہتا تھا۔دُنیا کی ہر آسایش اُس کے پاس تھی ۔ اس کا ایک ہی بیٹا تھا جو تنہائی پر تعیش زندگی گزار رہا تھا۔ ایک دن اس شخص نے سوچا کہ کسی طرح مجھے اپنے بیٹے کو اس بات کا احساس دلانا چاہیے کہ وہ کس قدر عیش وعشرت کی زندگی گزار رہا ہے۔ اسے علم ہونا چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے غریب لوگ بھی رہتے ہیں اور وہ غربت میں کس طرح گزارا کرتے ہیں تاکہ میرے بیٹے کوان چیزوں کی قدر وقیمت کا احساس ہو جو اُسے میسر ہیں اور اس مال و دولت کی قدر ہو جو میں نے اُسے دے رکھی ہے۔ یہی سوچ کر اُس نے فیصلہ کیا کہ ایک وہ اپنے بیٹے کو کسی گاوٴں لے جائے گا اور وہ پورا دن کسی غریب کسان کے گھر گزاریں گے۔ وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ اپنی ریاست کے چھوٹے سے گاوٴں میں پہنچا اور پورا دن وہ دونوں ایک کسان کے ساتھ رہے۔ اس شخص نے اپنے بیٹے کو پورا گاوٴں دکھایا اور گاوٴں کے لوگوں کا رہن سہن ، کھانا پینا اور پہننا اوڑھنا بھی دکھایا۔ غرض اس نے بیٹے کو گاوٴں کی زندگی سے اچھی طرح روشناس کروا دیا۔ امیر آدمی کے بیٹے کیلئے یہ سب کچھ بہت نیا اور انوکھا تھا۔ وہ انتہائی دل چسپی...

خوبصورت ‏انسان

ایک انسان بہت سارے ایٹموں سے مل کر بنتا ھے آپکی ہڈیوں میں جو کیلشیم ھے اور آپ کے خون میں جو آئرن ھے وہ ایک دھماکے سے پھٹنے والے ستارے کے دل میں پکی تھی آج سے اربوں سال پہلے۔ ( ہم سبھی انسان ستاروں کی خاک سے بنے ہوئے ہیں) #کارل_سیگن کا یہ خوبصورت قول ھے اگر ہم آپنی کائنات کے ممکنات کو دیکھیں تو ہم انسان اس میں بہت قیمتی ہیں۔ اگر آپ کا آختلاف کسی وجہ سے کسی ایک انسان سے ہو جاتا ھے۔ تو پھر بھی اسے جینے دیں۔ چونکہ ان اربوں کہکشاہوں میں بھی ڈھونڈنے سے تمہیں اس جیسا کوئی دوسرا انسان نہیں ملے گا!

حیاتیات کافی حیران کُن حد تک پہنچ چُکی

حیاتیات کافی حیران کُن حد تک پہنچ چُکی ہے۔ آئیے آپ کو کچھ حیران کُن باتیں بتاتا ہوں ایپی جنیٹکس یہ کہتی ہے کہ مائیں حمل کے دوران جن امور میں مصروف رہتی ہیں اُن کا بچے کی ذہنی صحت پہ کافی اثر ہوتا ہے۔ جس طرح کی موسیقی مائیں سُنتی ہیں وہ موسیقی بچوں کی جینیات پہ اثر رکھتی ہے۔ وہ باپ جو فولک ایسڈ اور وٹامن بی 12 کی زیادہ مقدار والی خوراک لیتے ہیں اُنکے بچوں کی یاداشت نارمل بچوں سے کمزور اور اُنکے جینز کا اظہار مختلف ہوتا ہے۔ وہ مائیں جو حمل کے دوران پیار سے رہتی ہیں۔ دوسروں کو پیار کی نگاہ سے دیکھتی ہیں اُن میں  ایسٹروجن خارج ہوتی ہے اور یہ ایسٹروجن بچے کی جینز پہ اثر کرتی ہے جس کے نتیجے میں انکے بچے  زیادہ پُرجوش اور تیز ہوتے ہیں ۔ وہ باپ جو بچپن میں ماں باپ سے ہراس ہوچکے ہیں، دباؤ کے ماحول میں بڑھے ہیں، اُنکے بچوں کے ایک سو چودہ دماغی  عصائب کے جینز متاثر ہوچکے ہوتے ہیں۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے بچوں کو جھڑک کر نا صرف اُن کو احساس کم تری کا شکار کررہے ہوتے ہیں بلکہ آپ اپنے  بچوں کی اولاد کی ذہانت بھی کم کر رہے ہوتے ہیں۔ یاد رہے یہ تحقیق ایپی جنیٹکس کے متعلق ہے۔...

دماغ ‏کو ‏کیسے ‏فریش ‏کریں

دماغ کو کیسے فریش کریں عام طور پر ہمارے دماغ کی فریکوئینسی 14 سے 30 htz ہوتی ہے۔ ہم تقریبا سارا دن اپنے دماغ کو اس فریکوئینسی پر چلاتے ہیں۔ دماغ کی اس فریکوئینسی کے ساتھ ہم بات چیت کرتے ہیں، کام کرتے ہیں، جذبات کا ظہار کرتے ہیں اور ضروری سوچ بچار کرتے ہیں۔ دماغ جب اس فریکوئینسی پر ہوتا ہے تو اسے Beta State of mind کہتے ہیں، اور اس حالت میں زہن سے نکلنے والی شعاوں کو Beta waves کہتے ہیں۔  جب دن کے کسی حصے میں ہم اپنے خیالوں میں کھوے ہوے کوی بات یا کوی واقعہ یا کوی Fantasy سوچ رہے ہوتے ہیں تو اس وقت ہمارے دماغ کی فریکوئینسی کم ہو کر 8 سے 14 htz ہو جاتی ہے۔ یا جب ہم نیند کی طرف جا رہے ہوتے ہیں، غنودگی کی کیفیت طاری ہو رہی ہوتی ہے اس وقت بھی ہمارے دماغ کی یہی فریکوئینسی ہوتی ہے۔ اسے Alpha state of mind کہتے ہیں اور اس سٹیٹ میں نکلنے والی شعاوں کو Alpha waves کہتے ہیں۔ ہلکی نیند کی کیفیت کو Theta State of mind کہتے ہیں اور اس کی فریکوئینسی 4 سے 8 htz ہوتی ہے۔ اس فریکوئینسی میں خواب بھی آتے ہیں۔ گہری نیند کی صورت Delta State of Mind کہلاتی ہے، اس کی فریکوئینسی 1 سے 4 htz ہوتی ہے۔ اس فریک...

تعریف ‏کیا ‏کریں

کسی کی تعریف کرنے کے لئے ضروری نہیں کہ اسکے مرنے یا جُدا کا انتظار کیا جائے۔ ایک بار پروفیسر جارڈرن پیٹرسن اس بات پہ رو پڑے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور وہ اس احساس میں مبتلا تھا کہ اس میں کسی چیز کی کمی ہے شائد اسی وجہ سے اس کی کوئی تعریف نہیں کرتا۔ بدلے میں پیٹرسن نے اسکی تعریف کی تو وہ شخص بلک بلک رویا۔ لوگ تعریف سننے کو ترستے یہاں فوت ہوجاتے ہیں۔ ہمارا بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ اگلے کی تعریف کرنے سے وہ شخص ان کے ساتھ اپنا برتاؤ بدل دے گا۔ زیادہ تر گھریلو جھگڑوں کو آپ دیکھ لیں چاہے لو میرج ہو یا ارینج،  شادی کے کچھ سالوں بعد لڑائیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ کیوں؟   کیونکہ دونوں ایکدوسرے کو پہلے کی طرح نہیں سراہتے ۔ بہت سے انسانوں کو یہ قدرتی عادت ہوتی ہے کہ وہ خوشی کے موقعے پہ ناراض ہو جاتے ہیں۔ سائیکالوجیکلی اس مظہر کی کئی وجوہات ہوتی ہیں زیادہ تر بچپن کی احساس محرومیاں۔مگر یہ بات کسی بھی رشتے میں محبت کو کم کرنے کے لئے کافی سے بھی زیادہ ثابت ہوتی ہے۔ بقول کچھ سائیکالوجسٹس ہم ایسے تعریف نا کرکے کسی کو خود اپنی ذات سے نفرت کرنا سکھا دیتے ہ...

چاند ‏کی ‏معلومات

چاند زمین کا ایک قدرتی سیٹیلائٹ ہے جو زمین کے گرد کروڑوں سالوں سے گھومتی آرہی ہے۔ چاند ایک ایسی دنیا ہے جسکے بارے میں astronomers زیادہ جانتے ہیں کیونکہ ایک تو یہ زمین کے بہت زیادہ قریب موجود ہے اور دوسرا یہ زمین کا قدرتی سیٹیلائٹ بھی ہے جو زمین کے آربٹ میں ہے۔ astronomers کے مطابق چاند ہر سال ہم سے 6 سنٹی میٹر دور ہوتا جارہا ہے مطلب یہ کہ آج سے کروڑوں سال بعد اگر زمین پر انسان موجود ہوئے تو وہ چاند کے بارے میں صرف قصے کہانیاں ہی سنیں گے اور ان کی کتابوں میں چاند کے بارے میں لکھا ہوگا کیونکہ اس وقت چاند زمین سے بہت زیادہ دور جا چکا ہوگا اتنا دور کہ یہ زمین سے ایک نقطے کی مانند نظر آئے گا۔  آج ہم جانتے ہیں کہ چاند کی وجہ سے زمین کو کافی فائدہ ہورہا ہے سمندروں میں مدوجزر پیدا ہورہے ہیں جسکی وجہ سے آبی زندگی برقرار ہے آج ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ زمین سورج کے گرد اپنا ایک چکر 365 دنوں میں مکمل کرتی ہے وہی اپنے axis پر یہ اپنا ایک چکر صرف 24 گھنٹوں میں مکمل کرتی ہے لیکن چاند ایسا بلکل نہیں کرتا۔ چاند اپنا ایک چکر زمین کے گرد صرف 27 دنوں میں مکمل کرتی ہے وہی اپنے axis پر بھی یہ اپنا ایک چک...

خواہشات_سکون_کی_بربادی_ہے

#خواہشات_سکون_کی_بربادی_ہے۔ ارب پتی صنعت کار، ایک مچھیرے کو دیکھ کر بہت حیران ہوا جو مچھلیاں پکڑنے کی بجائے اپنی کشتی کنارے سگریٹ سُلگائے بیٹھا تھا۔ صنعت کار: تم مچھلیاں کیوں نہیں پکڑ رہے؟ مچھیرے: کیونکہ آج کے دن میں کافی مچھلیاں پکڑ چکا ہوں۔  صنعت کار: تو تم مزید کیوں نہیں پکڑ رہے؟ مچھیرا: میں مزید مچھلیاں پکڑ کر کیا کروں گا؟ صنعت کار: تم زیادہ پیسے کما سکتے ہو، پھر تمہارے پاس موٹر والی کشتی ہو گی۔ جس سے تم گہرے پانیوں میں جاکر مچھلیاں پکڑ سکو گے۔ تمہارے پاس نائیلون کے جال خریدنے کے لئے کافی پیسے ہوں گے۔ اس سے تم زیادہ مچھلیاں پکڑو گے اور زیادہ پیسے کماؤ گے۔ جلد ہی تم ان پیسوں کی بدولت دو کشتیوں کے مالک بن جاؤ گے۔ ہوسکتا ہے تمہارا ذاتی جہازوں کا بیڑا ہو۔ پھر تم بھی میری طرح امیر ہو جاؤ گے۔ مچھیرا: اس کے بعد میں کیا کروں گا؟ صنعت کار: پھر تم آرام سے بیٹھ کر زندگی کا لُطف اُٹھانا۔  مچھیرا: تمہیں کیا لگتا ہے، میں اس وقت کیا کر رہا ہوں؟

آخرت ‏کی ‏تیاری ‏کرتے رہیں۔

⚖ ✍️ آخــــــرت کــــی تیـــــاری کـــرتـــے رہیـــــں،  📖دنیا کی عظیم کتاب قرآن مجید نے قیامت کا منظر  یوں بیان کیا ہے۔   ⭐۔ قیامت کا دن بہت عظیم دن ہے۔ (سورة الحج:1) ⭐۔اس دن سنگین حادثات پیش آئیں گے۔ (سورة القارعة:3-1) ⭐۔ وہ دن نہایت تلخ دن ہوگا۔ (سورة القمر:46) ⭐۔ ہر طرف مصیبت چھا جائے گی۔ (سورة النازعات:34) ⭐۔ اس دن کا شر ہر طرف پھیلا ہوگا۔ (سورة الانسان:7) ⭐۔ بہت خوف اور گھبراہٹ کا عالم ہوگا۔ (سورة إبراهيم :42) ⭐۔ اس دن کی ہولناکیاں دیکھ کر آنکھیں پتھرا جائیں گی۔ (سورة القيامة:7) ⭐۔ اس دن کی شدت سے دل اور نگاہیں الٹ جائیں گے۔ (سورة النور:37) ⭐۔ کلیجے منہ کو آجائیں گے۔ (سورة غافر:18) ⭐۔ وہ تیوریاں چڑھانے والا دن ہوگا۔ (سورة الإنسان:10) ⭐۔ وہ دن بچوں کو بوڑھا کرے گا۔ (سورة المزمل:17) ⭐۔ حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں گے۔ (سورة الحج:2) ⭐۔ وہ دن ٹلنے والا نہیں ہوگا۔ (سورة الشورى:47) ⭐۔ اس دن انسان جائے پناہ تلاش کرے گا۔ (سورة القيامة:11-10) ⭐۔ اس دن کسی کا مکر و فریب کسی کام نہں آئے گا۔ (سورة الطور:46) ⭐۔ اس دن کوئی عہدہ اور منصب کام نہ آئے گا۔ (سورة الشعراء:88) ⭐۔ ا...

اجامو ‏ایک ‏غریب ‏شخص

اجامو ایک غریب شخص کا اکلوتا بیٹا تھا 17 سال کی عمر میں قتل کا الزام لگا اور عمر قید کی سزا ہوئی. 40 سال جیل میں کاٹنے کے بعد ایک دن اجامو کو عدالت نے یہ کہتے ہوئے بری کر دیا کہ یہ بیگناہ ہے. اجامو کمرہ عدالت میں جج کے سامنے بیٹھا تھا حکومت نے  ان کے آگے ایک خالی ورقہ رکھا اور ان سے کہہ دیا کہ ان 40 سالوں کے بدلے اس کاغذ پر جتنی چاہیں رقم لکھ دیں حکومت آپ کو فوری ادا کرے گی. جانتے ہو اجامو نے کیا لکھا ؟ اجامو نے صرف ایک جملہ لکھا کہ "جج صاحب اس قانون پر نظر ثانی کیجئے" تاکہ کسی اور اجامو کی زندگی کے قیمتی 40 سال ضائع نہ ہوں. اس کے بعد وہ رو پڑے اسکے ساتھ کمرہ عدالت میں موجود حاضرین کی آنکھیں بھی اشکبار تھی. یہ کمرہ عدالت میں اسی لمحے کی تصویر ہے جب اجامو کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا. ہمارے ہاں کتنے ہی اجامو ہیں جو جیل میں زندگی گزار کر وہی مرتے ہیں وہی کہیں دفن ہوتے ہیں اور اس کے کئی سال بعد عدالت ان کو بیگناہ قرار دیتی ہے. سید رسول کو جب لاہور ہائی کورٹ نے قتل کیس میں بری کیا تو پتہ چلا کہ وہ تو 2 سال پہلے جیل میں انتقال کرگئے ہیں،جب مظہر حسین کو 19 سال بعد قتل کیس میں سپریم کورٹ...

ایک ‏عبرتناک ‏قصہ

‎ ﺍﯾﮏ ﻋﺒﺮﺗﻨﺎﮎ ﻗﺼﮧ ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛ ﺍﯾﮏ ﻓﻘﯿﺮ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﭽﺮ ﭘﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻮﺍﺭ ﮐﺮﮐﮯ ﺩﻣﺸﻖ ﺳﮯ ﺯﯾﺪﺍﻧﯽ ﭘﮩﻨﭽﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﺮﺍﯾﮧ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﯾﮏ ﻗﺼﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺳﻮﺍﺭ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ : ﯾﮧ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺳﮯ ﭼﻠﻮ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻨﺰﻝ ﻣﻘﺼﻮﺩ ﺗﮏ ﺟﻠﺪﯼ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻧﮩﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻭﮦ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﮨﻢ ﺍﺳﯽ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﭼﻞ ﭘﮍﮮ ۔ ﺁﮔﮯ ﺟﺎﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺩﺷﻮﺍﺭ ﮔﺬﺍﺭ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺁﮔﯿﺎ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﮔﮩﺮﯼ ﻭﺍﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﺎﮞ ﺑﮩﺖ ﺳﺎﺭﯼ ﻻﺷﯿﮟ ﭘﮍﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯿﮟ ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﯾﮩﺎﮞ ﺭﮎ ﺟﺎﻭ ۔ ﻣﯿﮟ ﺭﮎ ﮔﯿﺎ ۔ ﻭﮦ ﻧﯿﭽﮯ ﺍﺗﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﺗﺮﺗﮯ ﮨﯽ ﭼﮭﺮﯼ ﺳﮯ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﺁﻭﺭ ﮨﻮﺍ ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺎﮒ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﺍ ۔ ﻣﯿﮟ ﺁﮔﮯ ﺁﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ۔ ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ﺩﮮ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ : ﺧﭽﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻟﺪﺍ ﮨﻮﺍ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺗﻢ ﻟﮯ ﻟﻮ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﺑﺨﺶ ﺩﻭ ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﻭﮦ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﮯ ﮨﯽ ، ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮭﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﮐﮯ ﮨﯽ ﺩﻡ ﻟﻮﮞ ﮔﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﮈﺭﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻗﺘﻞ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﯾﺎﺩ ﺩﻻﺋﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺳﻨﯽ...

عبدالستار ‏ایدھی ‏کو ‏کس ‏لاش ‏پر ‏رونا ‏آیا

عبدالستار ایدھی مرحوم سے ایک انٹرویو میں جب پوچھا گیا کہ آپ نے ہزاروں لاوارث لاشیں دفنائیں ھیں کیا آپ کو کبھی کسی لاش کی بگڑی حالت یا اس پر تشدد دیکھ کر رونا آیا؟ انھوں نےآنکھیں بند کرکے گہری سوچ میں غوطہ زن ہوتے ہوئے کہا تشدد یا بگڑی لاش تو نہیں البتہ ایک مرتبہ میرے رضاکار ایک صاف ستھری لاش لے کر آئے جو تازہ انتقال کئے بوڑھے مگر کسی پڑھے لکھے اور کھاتے پیتے گھرانے کی لگ رھی تھی۔ اس کےسفید چاندی جیسے بالوں میں تیل لگا ہوا تھا. اور بال سلیقے سے کنگھی کئے ہوئے تھے اور دھوبی کے دھلے ہوئے سفید اجلے کلف لگے سوٹ میں اس کی شخصیت بڑی باوقار لگ رہی تھی مگر اب وہ صرف ایک لاش تھی۔  ایدھی صاحب پھر کچھ سوچتے ہوئے گویا ہوئے! ہمارے پاس روزانہ کئی لاشیں لائی جاتی ہیں. مگر ایسی لاش جو اپنے نقش چھوڑ جائے. کم ہی آتے ہیں اس لاش کو میں غور سے دیکھ رہا تھا. کہ میرے رضاکار نے کراچی کی ایک پوش بستی کا نام لے کر کہا کہ یہ لاش اس کے بنگلے کے باہر پڑی تھی. ہم جونہی بنگلے کے سامنے پہنچے تو ایک ٹیکسی میں سوار فیملی جو ہمارا ہی انتظار کر رہی تھی اس میں سے ایک نوجواں برآمد ہوا اور جلدبازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک...

عللامہ اقبالایک واقعہ، ایک سبق

عللامہ اقبال ایک واقعہ، ایک سبق علامہ اقبال یورپ کے دورے پر تھے- ایک روز شام کے وقت ایک پارک میں بچوں کو کھیلتے دیکھ لطف اندوز ہورہے تھے- اچانک ان کی نگاہ پارک کے کونے میں بیٹھے ایک ایسے بچے پر پڑی جو پڑھائی کر رہا تھا- علامہ اقبال کو حیرت ہوئی- کیونکہ وہ بچوں کی فطرت (child psychology) سے بخوبی واقف تھے، اس لئے بچے کو پڑھتا دیکھ انہیں ذرا تعجب ہوا- انہیں عجیب لگا کہ ایک بچہ اس ماحول میں پڑھ بھی سکتا ہے- انہیں یہ بچہ کچھ extra ordinary لگا- وہ اٹھ کر اس بچے کے پاس گئے،  اور اس سے بولے، " کیا آپ کو کھیلنا پسند نہیں؟" بچے کے جواب نے انہیں حیران کردیا- " ہم دنیا میں مٹھی بھر ہیں، اگر میں کھیلنے میں وقت ضائع کروں گا تو میری قوم مٹ جائے گی،  مجھے اپنی قوم کو بچانا ہے-" علامہ: "آپ کس قوم سے ہو"؟ بچہ: " میں یہودی ہوں"- " میں یہودی ہوں "  یہ الفاظ اور یہ عزم، علامہ اقبال کے ہوش فاختہ ہوگئے- ان کاذہن کسی اور ہی دنیا میں چلا گیا- اور آنکھوں سے بے ساختہ آنسو بہنے لگے- وہ یونان، اسپین، مصر، ایران کی فتح کی کہانیوں سے لیکر ان کو گنوا دینے تک کی وجوہ...

اور اطمینان پا لیں ……خود کو پا کر……

...اور اطمینان پا لیں ……خود کو پا کر……  مائیکل جیکسن، بے انتہاء قابل اور حیران کن صلاحیتوں کا مالک تھا۔وہ دنیا کے چند مشہور ترین افراد میں شمار ہوتا تھا۔اسے دیکھتے ہی فین بے ہو ش ہو جایا کرتے تھے۔اس کے کنسٹرٹ میں فرسٹ ایڈ کی ٹیم بہت ایکٹیو رہتی تھی کیونکہ اسے اسٹیج پر ایک جھلک دیکھ کرلوگ دیوانے ہوجاتے تھے۔اس جیسا ڈانس کرنے میں لوگ آج بھی ناکام رہے ہیں، کیونکہ اس کے جسم میں بے مثال انرجی اور لچک تھی۔ اس کی طرح”مون واک“ آج تک کوئی نہیں کر سکا۔ دنیا میں بہت لوگ مشہور ہوئے لیکن آج تک کوئی”مائیکل“کی طر ح مشہور نہیں ہوا۔یہ تفصیل میں نے کس لیے بتائی ہے؟   توسنیں!کہ میں جب جب مائیکل کی زندگی پر غور کرتی ہوں، میرا دل افسوس سے بھر جاتا ہے کہ اتنا ٹیلنٹ، اتنی شہرت، اتنا پیسہ، اور اتنی محبت ملنے پربھی وہ خوش اورمطمئن نہیں تھا۔ اور کیوں نہیں تھا؟کیونکہ اس نے کبھی خود کو”قبول“ ہی نہیں کیا تھا۔ وہ اپنے ٹیلنٹ کو پہچانتا تھا لیکن”خود“کو نہیں۔ وہ اپنے ٹیلنٹ سے محبت کرتا تھا لیکن ”اپنی شناخت“سے نفرت کرتا تھا۔اسے اپنے سیاہ فام ہونے سے صرف مسئلہ نہیں تھا بلکہ نفرت تھی۔پیسہ آتے ہی اس نے سب سے ...

دل ‏سوز ‏کہانی

میں نے دفتر کے باہر بورڈ آویزاں کر رکھا تھا جس پر تحریر تھا ’’ملاقاتی ہر سوموار اور جمعرات کو صبح 9بجے سے 12تک بلا روک ٹوک تشریف لاسکتے ہیں‘‘۔ ایک روز ایک مفلوک الحال بڑھیا آئی ، رو رو کر بولی کہ میری چند بیگھہ زمین ہے۔ جسے پٹواری کو اس کے نام منتقل کرنا ہے لیکن وہ رشوت لیے بغیر کام کرنے سے انکاری ہے۔ رشوت دینے کی توفیق نہیں۔ تین چار برسوں سے دفتروں میں دھکے کھا رہی ہوں لیکن کہیں شنوائی نہیں ہوئی۔اس کی دردناک بپتا سن کر میں نے اُسے گاڑی میں بٹھایا اور جھنگ شہر سے 60-70 میل دور اس گاؤں کے پٹواری کو جا پکڑا۔ ڈپٹی کمشنر کو اپنے گاؤں میں دیکھ کر بہت سے لوگ جمع ہوگئے۔ پٹواری نے سب کے سامنے قسم کھائی، یہ بڑھیا بڑی شرانگیز ہے اور جھوٹی شکایتیں کرنے کی عادی ہے۔ اپنی قسم کی تصدیق کے لیے پٹواری اندر سے ایک جزدان اُٹھا لایا اور اسے اپنے سر پر رکھ کر کہنے لگا '’حضور اس مقدس کتاب کی قسم کھاتا ہوں‘‘، گاؤں کے ایک نوجوان نے مسکرا کر کہا جناب ذرا یہ بستہ کھول کر بھی دیکھ لیں۔ ہم نے بستہ کھولا تو اس میں پٹوار خانے کے رجسٹر بندھے ہوئے تھے۔ میرے حکم پر پٹواری بھاگ کر ایک اور رجسٹر اُٹھا لایا اور سر جھ...