Posts

(Depression) دباؤ

تحریر : آمجد خان محسود (Depression) دباؤ دباؤ بعض لوگوں کے نذدیک یہ ایک کیفیت کا نام ہے اور بہت سے لوگوں اور ماہرِ نفسیات کے مطابق یہ ایک بیماری ہے۔ دراصل اس میں ہوتا یہ ہے کہ ڈپریشن کے متاثرہ شخص کے زہن پر پریشانیوں کا دباؤ اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے معمولات کو صحیح طریقے پر انجام دینے قابل نہیں رہتا ۔گویا زہنی دباؤ سے اس کا زہن اس قدر متاثر ہوجاتا ہے کہ وہ کسی ایک کام پر یکسوئ کے قابل نہیں رہتا۔ آج کل کی جدید شہری زندگی کی جہاں بہت سی سہولتیں ہیں اور برکتیں ہیں وہاں ہر وقت ایک ایسے عذاب سے بھی واسطہ پڑتا رہتا ہے جسے مہذّب اصلاح میں " ڈپریشن یا ذہنی دباؤ" کہا جاتا ہے۔ڈپریشن کسی بھی سطح کا اور کسی بھی ممکنہ وجہ سے ہوسکتا ہے اور بڑے شہروں کا کوئی بھی شہری یہ دعویٰ نہیں کرسکتاکہ وہ ڈپریشن کے آثرات سے بالکل آزاد ہے البتہ ذرا سی توجّہ اور کوشش سے اس بیماری پر قابو ضرور پایا جاسکتا ہے۔ ذہن کی یہ کیفیت کیوں ہوتی ہے اس کا پسِ منظر کیا ہے؟ آئیے دیکھتے ہیں دیکھیں! یہ دنیا جس میں ہم رہ رہے ہیں ہمیں خوشیاں اور غم دونوں فراہم کرتی ہے۔ہماری اس زندگی میں خوشیاں تو ہیں لیکن سات...

جذبات کی سائنس

جذبات کی سائنس۔۔۔۔! انسان روزانہ کی بنیاد پر مختلف لوگوں سے ملتا ہے ، باتیں کرتا ہے۔ يعنی کہ تلخیاں اور دوستیاں معمول ہوتی ہیں۔ ماحول ، حالات ، کردار کے متعلق گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ ان حالات میں مختلف افراد کا رویہ یا آراء جاننے کے بعد انسان جذبات کی صورت میں ردعمل دکھاتا ہے۔ ان جذبات کو چہرے پر تاثرات کی صورت میں محسوس کیا جاسکتا ہے۔ عام طور پر دکھ ، خوشی ، حیرت ، خوف ، کراہت اور غصے کو بنیادی جذبات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس درجہ بندی کا سہرا رابرٹ پلچک نامی نفسیات دان کے سر جاتا ہے۔ جس نے 70 کی دہائی میں یہ کام سرانجام دیا۔ کچھ جذبات آپس میں مل کر ایک نیا جذبہ پئدا کرتے ہیں۔ جیسے خوشی اور اعتماد مل کر محبت بناتے ہیں۔ انسانی جذبات کا تعلق انسانی دماغ میں موجود (limbic system) سے ہوتا ہے۔ لمبک سسٹم یاداشت ، بھوک ، دل کی دھڑکن یعنی آٹونامک نروس سسٹم کو کنٹرول کرتا ہے۔ یعنی کہ انسان کے تمام شعوری و غیر شعوری کاموں کو یہ سسٹم کنٹرول کرتا ہے۔ لمبک سسٹم کوئی واحد بناوٹ نہیں بلکہ کئی بناوٹوں کا امتزاج ہے ، جن میں (hypothalamus) ، (amygdala) بھی شامل ہیں۔ یہ بناوٹیں حالات کی نزاکت کو دیکھ کر ہا...

کٹوپس کے بارے میں چند عجیب وغریب حقائق

اکٹوپس کے بارے میں چند عجیب وغریب حقائق اس زمین پر لاکھوں عجیب و غریب مخلوقات آباد ہیں جن میں خشکی پر رہنے والے، ہوا میں اڑنے والے اور سمندروں میں رہنے والے شامل ہیں۔ سمندر کی گہرائیوں میں موجود اکٹوپس نامی مخلوق کو بھی اگر ہم ان عجیب و غریب مخلوقات میں شامل کریں تو ہرگز غلط نہ ہوگا کیونکہ اکٹوپس کچھ ایسے خصوصیات رکھتا ہے جو اسے دوسرے مخلوقات سے بہت الگ کرتا ہے۔ آج ہم اکٹوپس کے بارے میں کچھ ایسے حقائق جانے گے جو اس سیارہ زمین پر صرف اکٹوپس کو ہی حاصل ہے۔ ہماری اس دنیا میں اکٹوپس کی دو سو 200 اقسام پائے جاتے ہیں جو اکثر سمندرو کی گہرائی میں دیکھے جاتے ہیں۔ اکٹوپس کو سمندروں کے مانسٹرز بھی کہتے ہے۔ لفظ اکٹوپس ایک یونانی زبان کا لفظ ہے جسکے معنی ہے آٹھ پاوں یعنی آٹھ پاوں رکھنے والا۔ آپ میں سے بہت سے لوگ سوچ رہیں ہونگے کہ اس مخلوق کے 8 پاوں ہونگے جوکہ سائنس کے مطابق مکمل طور پر غلط ہے کیونکہ جن کو ہم 8 پاوں سمجھ رہیں ہے وہ دراصل میں اکٹوپس کے بازوں ہیں۔  اکٹوپس کے ہر بازوں میں سکرز لگے ہوتے ہیں جن سے یہ کسی بھی قسم کی لیکویڈ کو چوسنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔  پوری دنیا میں اگر دیک...

ایڈز

ایڈز بیماریوں پر قابو پانے کے ادارے کے ہفت روزہ رسالے میں 4 جولائی 1981 کو ایک رپورٹ شائع ہوئی۔ لاس اینجلس میں اکتوبر 1980 سے مئی 1981 کے درمیان پانچ مریض داخل ہوئے تھے۔ ان سب کو ایک نایاب بیماری نیموسسٹس نمونیا تھی۔ یہ بیماری ایک عام پائی جانے والی فنگس سے ہوتی ہے۔ اس کے ذرات اس قدر عام ہیں کہ یہ بچپن میں ہی جسم میں داخل ہوتے رہتے یہں۔ امیون سسٹم ان کو جلد ہی مار دیتا ہے اور آئندہ کے لئے محفوظ کر دیتا ہے۔ لیکن بہت کمزور امیون سسٹم ہو جانے کے بعد یہ فنگس تباہی مچا سکتی ہے اور پھیپھڑے ناکارہ کر دیتی ہے۔ مریض کو زندہ رکھنے کے لئے آکسیجن دینی پڑتی ہے۔ یہ پانچوں مریض اس حالت میں تھے کہ ان کو یہ بیماری لاحق نہیں ہونے چاہیں تھی۔ نوجوان مرد جو کچھ عرصہ پہلے تک ہر لحاظ سے صحت مند تھے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے رسالے کے مدیر نے لکھا کہ “یہ ممکنہ طور پر خلیوں کے امیون سسٹم میں ہونے والی خرابی ہے”۔  انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ جدید تاریخ میں آنی والی بدترین وبا کا بتا رہے ہیں۔ یہ پانچ افراد خلیاتی امیون سسٹم کی خامی کا شکار تھے اور اس کی وجہ ایچ آئی وی وائرس تھا۔ بعد میں محققین نے معلوم کیا کہ...

کینسر بیماری کیسے کہتے ہیں

کینسرز ایسی بیماریوں کو کہتے ہیں جن میں بدن کے کسی حصے کے خلیے بنا روک ٹوک کے تقسیم ہو کر دوسرے حصوں کو پھیل سکیں ،  ایک اوسط جسامت کے انسان میں پچہتر کھرب (پچہتر سو ارب ) خلیے ہوتے ہیں ، ان میں سے ٣٠٠ ارب خلیے ہر روز تقسیم ہوتے ہیں ، یہ خلوی تقسیم یا مائیٹوسس بڑے کنٹرولڈ طریقے سے ہوتی ہے.  پر بعض اوقات کچھ خلیے کنٹرول سے نکل کر بنا روک ٹوک تقسیم ہونا شروع ہو جاتے ہیں ، ان کو ہم کینسر کے خلیے کہتے ہیں اور یہ ہم میں سے ہر شخص کے بدن میں روزانہ ہزاروں کے حساب سے بنتے ہیں ،  عموما ہمارے خون کا مدافعاتی نظام ان کو پہچان کر فورا ختم کر دیتا ہے اور ہمیں کینسر نہیں ہو پاتا ،  پر اگر اس نظام اور کینسر کے خلیوں میں توازن خراب ہو جاے یعنی خلیے کثرت سے بنیں یا مدافعاتی نظام کمزور ہو تو ہمیں کینسر ہو جاتا ہے .  بہت سے عوامل کینسر کا باعث بنتے ہیں ، یہ عوامل یا تو جینیاتی تبدیلیاں لا کر کینسر کے خلیوں کی تعداد بڑھاتے ہیں یا خون کے مدافعاتی نظام کو کمزور کرتے ہیں ،  ان میں سگریٹ نوشی قابل ذکر ہے ، اسکے علاوہ موٹاپا ، خوراک میں زیادہ توانائی اور گوشت کا استعمال ، ورزش کی ...

*بل گیٹس کی ہائی اسکول کے طلبہ کو نصیحت آموز تقریر:*

*بل گیٹس کی ہائی اسکول کے طلبہ کو نصیحت آموز تقریر:* *پہلا اصول:*  زندگی منصفانہ بالکل نہیں ہوتی، اس بات کی عادت ڈال لو۔ *دوسرا اصول:* دنیا میں کسی کو تمہاری خود اعتمادی سے کوئی مثبت لینا دینا نہیں ہوتا۔ کسی سے توقع نہ رکھو کہ وہ تمہیں اعتماد دے گا۔ یہ تمہارا اپنا کام ہے۔ اس سے پہلے کہ تم میں خود اعتمادی ذرا سی بھی پیدا ہوئی ہو، دنیا تم سے توقع کرے گی کہ تم ہر کام پرفیکشن کے ساتھ کرو. *تیسرا اصول:* ہائی اسکول سے نکلتے ہی تم ہر سال چالیس ہزار ڈالر نہیں کمانے لگو گے۔ اس حقیقت کو یاد رکھو کہ اس میں بہت وقت لگے گا۔  *چوتھا اصول:* اگر تمہیں شکایت ہے کہ تمہارے ہائی اسکول کے ٹیچر بہت سخت ہیں تو انتظار کرو کہ کب جاب ملے، تمہیں اندازہ ہو گا کہ باس کیا بلا ہوتی ہے؟ ٹیچر کا تو پھر بھی ٹنیور ختم ہو جاتا ہے، باس تو زندگی بھر باس ہی رہتا ہے۔ شکایت کرنا بند کرو۔ *پانچواں اصول:*  اگر تمہیں بیچ میں گزارہ کرنے کے لئے برگر بھی تلنے پڑ جائیں تو اس میں کوئی شرم کی بات نہیں ہے۔ ہمارے بزرگ اس طرح برگر کے سٹال لگانے کو اچھا موقع قرار دیتے تھے، پیسے کمانے کا۔ کوئی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔ دنیا...

دنيا كے مشہور ترين ملحدين (Atheists) نے مرتے وقت كيا كہا:

دنيا كے مشہور ترين ملحدين   (Atheists)  نے مرتے  وقت كيا كہا: بورجيا: ميں اپنى زندگى ميں موت كے سوا ہر چيز كى تيارى كرتا تھا، اور اب  جب ميں مرنے والا ہوں تو موت كے ليے تيار نہيں۔  تھامس ہوبس:  يہ ايك سياسى فلسفى تھا، مرتے وقت كہتا ہے: ’’ ميں اس وقت اندھيروں ميں گرا پڑا ہوں، كوئى مجھ سے پورى دنيا لے  لے اور صرف ايك دن زندگى دے دے۔  تھامس پین: يہ اٹھارہویں صدی كا ملحد مصنف ہے جس نے  مرتے وقت کہا: ميں اس وقت ايسے عذاب ميں ہوں كہ مجھے اكيلا نہ چھوڑنا اور بلا شبہ جو ميں نے كيا ہے ميں اسى عذاب كا مستحق ہوں، اگر آج ميرے پاس پورى كائنات ہوتى اور اس دنيا كے مثل ايك اور دنيا بھى ہوتى تو ميں اس تكليف كے بدلے دے ديتا۔ آج مجھے اللہ نظر آرہا ہے جبكہ ميں پورى زندگى شيطان كا چيلا بنا رہا۔  4- سر تھامس اسکاٹ: ’’يہ ایک انگریزی مشیر تھا جو 1594 ء میں فوت ہوا ، اور مرتے ہوئے كہہ رہا ہے: "لمحوں پہلے تک میں کسی معبود یا آگ کے وجود پر یقین نہیں رکھتا تھا ، لیکن اب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ اصلی ہیں  اور اللہ كا وجود بھى ہے، اب  جبكہ میں عذاب کے ...