Posts

عبدالستار ‏ایدھی ‏کو ‏کس ‏لاش ‏پر ‏رونا ‏آیا

عبدالستار ایدھی مرحوم سے ایک انٹرویو میں جب پوچھا گیا کہ آپ نے ہزاروں لاوارث لاشیں دفنائیں ھیں کیا آپ کو کبھی کسی لاش کی بگڑی حالت یا اس پر تشدد دیکھ کر رونا آیا؟ انھوں نےآنکھیں بند کرکے گہری سوچ میں غوطہ زن ہوتے ہوئے کہا تشدد یا بگڑی لاش تو نہیں البتہ ایک مرتبہ میرے رضاکار ایک صاف ستھری لاش لے کر آئے جو تازہ انتقال کئے بوڑھے مگر کسی پڑھے لکھے اور کھاتے پیتے گھرانے کی لگ رھی تھی۔ اس کےسفید چاندی جیسے بالوں میں تیل لگا ہوا تھا. اور بال سلیقے سے کنگھی کئے ہوئے تھے اور دھوبی کے دھلے ہوئے سفید اجلے کلف لگے سوٹ میں اس کی شخصیت بڑی باوقار لگ رہی تھی مگر اب وہ صرف ایک لاش تھی۔  ایدھی صاحب پھر کچھ سوچتے ہوئے گویا ہوئے! ہمارے پاس روزانہ کئی لاشیں لائی جاتی ہیں. مگر ایسی لاش جو اپنے نقش چھوڑ جائے. کم ہی آتے ہیں اس لاش کو میں غور سے دیکھ رہا تھا. کہ میرے رضاکار نے کراچی کی ایک پوش بستی کا نام لے کر کہا کہ یہ لاش اس کے بنگلے کے باہر پڑی تھی. ہم جونہی بنگلے کے سامنے پہنچے تو ایک ٹیکسی میں سوار فیملی جو ہمارا ہی انتظار کر رہی تھی اس میں سے ایک نوجواں برآمد ہوا اور جلدبازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک...

عللامہ اقبالایک واقعہ، ایک سبق

عللامہ اقبال ایک واقعہ، ایک سبق علامہ اقبال یورپ کے دورے پر تھے- ایک روز شام کے وقت ایک پارک میں بچوں کو کھیلتے دیکھ لطف اندوز ہورہے تھے- اچانک ان کی نگاہ پارک کے کونے میں بیٹھے ایک ایسے بچے پر پڑی جو پڑھائی کر رہا تھا- علامہ اقبال کو حیرت ہوئی- کیونکہ وہ بچوں کی فطرت (child psychology) سے بخوبی واقف تھے، اس لئے بچے کو پڑھتا دیکھ انہیں ذرا تعجب ہوا- انہیں عجیب لگا کہ ایک بچہ اس ماحول میں پڑھ بھی سکتا ہے- انہیں یہ بچہ کچھ extra ordinary لگا- وہ اٹھ کر اس بچے کے پاس گئے،  اور اس سے بولے، " کیا آپ کو کھیلنا پسند نہیں؟" بچے کے جواب نے انہیں حیران کردیا- " ہم دنیا میں مٹھی بھر ہیں، اگر میں کھیلنے میں وقت ضائع کروں گا تو میری قوم مٹ جائے گی،  مجھے اپنی قوم کو بچانا ہے-" علامہ: "آپ کس قوم سے ہو"؟ بچہ: " میں یہودی ہوں"- " میں یہودی ہوں "  یہ الفاظ اور یہ عزم، علامہ اقبال کے ہوش فاختہ ہوگئے- ان کاذہن کسی اور ہی دنیا میں چلا گیا- اور آنکھوں سے بے ساختہ آنسو بہنے لگے- وہ یونان، اسپین، مصر، ایران کی فتح کی کہانیوں سے لیکر ان کو گنوا دینے تک کی وجوہ...

اور اطمینان پا لیں ……خود کو پا کر……

...اور اطمینان پا لیں ……خود کو پا کر……  مائیکل جیکسن، بے انتہاء قابل اور حیران کن صلاحیتوں کا مالک تھا۔وہ دنیا کے چند مشہور ترین افراد میں شمار ہوتا تھا۔اسے دیکھتے ہی فین بے ہو ش ہو جایا کرتے تھے۔اس کے کنسٹرٹ میں فرسٹ ایڈ کی ٹیم بہت ایکٹیو رہتی تھی کیونکہ اسے اسٹیج پر ایک جھلک دیکھ کرلوگ دیوانے ہوجاتے تھے۔اس جیسا ڈانس کرنے میں لوگ آج بھی ناکام رہے ہیں، کیونکہ اس کے جسم میں بے مثال انرجی اور لچک تھی۔ اس کی طرح”مون واک“ آج تک کوئی نہیں کر سکا۔ دنیا میں بہت لوگ مشہور ہوئے لیکن آج تک کوئی”مائیکل“کی طر ح مشہور نہیں ہوا۔یہ تفصیل میں نے کس لیے بتائی ہے؟   توسنیں!کہ میں جب جب مائیکل کی زندگی پر غور کرتی ہوں، میرا دل افسوس سے بھر جاتا ہے کہ اتنا ٹیلنٹ، اتنی شہرت، اتنا پیسہ، اور اتنی محبت ملنے پربھی وہ خوش اورمطمئن نہیں تھا۔ اور کیوں نہیں تھا؟کیونکہ اس نے کبھی خود کو”قبول“ ہی نہیں کیا تھا۔ وہ اپنے ٹیلنٹ کو پہچانتا تھا لیکن”خود“کو نہیں۔ وہ اپنے ٹیلنٹ سے محبت کرتا تھا لیکن ”اپنی شناخت“سے نفرت کرتا تھا۔اسے اپنے سیاہ فام ہونے سے صرف مسئلہ نہیں تھا بلکہ نفرت تھی۔پیسہ آتے ہی اس نے سب سے ...

دل ‏سوز ‏کہانی

میں نے دفتر کے باہر بورڈ آویزاں کر رکھا تھا جس پر تحریر تھا ’’ملاقاتی ہر سوموار اور جمعرات کو صبح 9بجے سے 12تک بلا روک ٹوک تشریف لاسکتے ہیں‘‘۔ ایک روز ایک مفلوک الحال بڑھیا آئی ، رو رو کر بولی کہ میری چند بیگھہ زمین ہے۔ جسے پٹواری کو اس کے نام منتقل کرنا ہے لیکن وہ رشوت لیے بغیر کام کرنے سے انکاری ہے۔ رشوت دینے کی توفیق نہیں۔ تین چار برسوں سے دفتروں میں دھکے کھا رہی ہوں لیکن کہیں شنوائی نہیں ہوئی۔اس کی دردناک بپتا سن کر میں نے اُسے گاڑی میں بٹھایا اور جھنگ شہر سے 60-70 میل دور اس گاؤں کے پٹواری کو جا پکڑا۔ ڈپٹی کمشنر کو اپنے گاؤں میں دیکھ کر بہت سے لوگ جمع ہوگئے۔ پٹواری نے سب کے سامنے قسم کھائی، یہ بڑھیا بڑی شرانگیز ہے اور جھوٹی شکایتیں کرنے کی عادی ہے۔ اپنی قسم کی تصدیق کے لیے پٹواری اندر سے ایک جزدان اُٹھا لایا اور اسے اپنے سر پر رکھ کر کہنے لگا '’حضور اس مقدس کتاب کی قسم کھاتا ہوں‘‘، گاؤں کے ایک نوجوان نے مسکرا کر کہا جناب ذرا یہ بستہ کھول کر بھی دیکھ لیں۔ ہم نے بستہ کھولا تو اس میں پٹوار خانے کے رجسٹر بندھے ہوئے تھے۔ میرے حکم پر پٹواری بھاگ کر ایک اور رجسٹر اُٹھا لایا اور سر جھ...

اور اطمینان پا لیں ……خود کو پا کر……

...اور اطمینان پا لیں ……خود کو پا کر……  مائیکل جیکسن، بے انتہاء قابل اور حیران کن صلاحیتوں کا مالک تھا۔وہ دنیا کے چند مشہور ترین افراد میں شمار ہوتا تھا۔اسے دیکھتے ہی فین بے ہو ش ہو جایا کرتے تھے۔اس کے کنسٹرٹ میں فرسٹ ایڈ کی ٹیم بہت ایکٹیو رہتی تھی کیونکہ اسے اسٹیج پر ایک جھلک دیکھ کرلوگ دیوانے ہوجاتے تھے۔اس جیسا ڈانس کرنے میں لوگ آج بھی ناکام رہے ہیں، کیونکہ اس کے جسم میں بے مثال انرجی اور لچک تھی۔ اس کی طرح”مون واک“ آج تک کوئی نہیں کر سکا۔ دنیا میں بہت لوگ مشہور ہوئے لیکن آج تک کوئی”مائیکل“کی طر ح مشہور نہیں ہوا۔یہ تفصیل میں نے کس لیے بتائی ہے؟   توسنیں!کہ میں جب جب مائیکل کی زندگی پر غور کرتی ہوں، میرا دل افسوس سے بھر جاتا ہے کہ اتنا ٹیلنٹ، اتنی شہرت، اتنا پیسہ، اور اتنی محبت ملنے پربھی وہ خوش اورمطمئن نہیں تھا۔ اور کیوں نہیں تھا؟کیونکہ اس نے کبھی خود کو”قبول“ ہی نہیں کیا تھا۔ وہ اپنے ٹیلنٹ کو پہچانتا تھا لیکن”خود“کو نہیں۔ وہ اپنے ٹیلنٹ سے محبت کرتا تھا لیکن ”اپنی شناخت“سے نفرت کرتا تھا۔اسے اپنے سیاہ فام ہونے سے صرف مسئلہ نہیں تھا بلکہ نفرت تھی۔پیسہ آتے ہی اس نے سب سے ...

فنکار ‏ڈاکو

💰 فنکار ڈاکو 💰            میں پوری قوت سے بھاگ رہا تھا پولیس کے دو سپاہی صرف دو قدم کے فاصلے پر میرے پیچھے اسی سپیڈ سے بھاگ رہے تھے ایک سپاہی گندی گالیاں نکال رہا تھا اور کہہ رہا تھا رُک جا تُو بچ جائے تجھے کچھ نہیں کہوں گا  لیکن مجھے پتہ تھا پولیس والوں کا وعدہ کتے کی دم جیسا ہوتا ہے جسے چھوڑیں تو فطرت کے مطابق مُڑ جاتی ہے  اگر آج میں موقع واردات سے پکڑا گیا توپولیس والوں نے سب سے پہلے مجھے مارمار کر ادھ مووا کر دینا ہے کیونکہ میں اُن سےایک شکاری کے ہاتھ سے پھسلی ہوئ مچھلی کی طرح نکل کے بھاگا تھا   میں انتہائ دبلا پتلا تھا پر وہ دونوں سخت جان پینڈو تھے پچھلے دس بارہ منٹ سے مسلسل تیز سپیڈ سے میرے پیچھے بھاگ رہے تھے تھک ہی نہیں رہے تھے  اچانک میرے سر پر انتہائ زور سے کوئ سخت اور بھاری چیز لگی شدید درد کی اک لہر میرے جسم میں سرائیت کر گئ میری آنکھوں کے سامنے ایک لمحے کیلئے اندھیرا چھا گیا لیکن میں رکا نہیں اور پوری قوت سے اپنے اعصاب  کو قابو کیا اور بھاگتا رہا  تھوڑا آگے جاکر مجھے بوٹوں کی آواز آنی بند ہوگئ میں نے رفتار تھوڑی ک...

موت ‏ایک ‏آفاقی ‏سچ

#تصور_موت موت ایک آفاقی سچ (universal truth) ہے۔ یہ اِس دنیا کی واحد حقیقت ہے جس پر سب کا اتفاق ہے۔ یہ کیسی عجیب حقیقت ہے کہ خدا اور آخرت پہ یقین نہ رکھنے والا بھی موت کے آنے پر یقین رکھتا ہے۔ یہ یقین ہی ہے کہ موت سے بچنے کے لیے انسان بیماریوں سے لڑنے، حادثات سے بچنے اور لمبی عمر پانے کے طریقے ڈھونڈتا آرہا ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق موت عمل (action) پر اُ کسانے والا سب سے بڑا محرّک  (motivator) ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان تصوّرِ موت سے بہت زیادہ تحریک پاتا ہے۔ یہ تحریک کیسی اور کتنی ہوسکتی ہے اس کا انحصار انسان کے رویہ پر ہے۔ اس حوالے سے دو رویے ہمارے سامنے آتے ہیں، پہلا رویہ مثبت ہے اور دوسرا منفی۔ مثبت رویہ یہ ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور موت اِس زندگی کا اختتام نہیں بلکہ ایک وقفہ ہے۔ اِس وقفہ کے بعد بروزِحشر زندگی ایک نئے اور ابدی روپ میں دوبارہ شروع ہوگی۔ یہ رویہ اپنانے والا انسان ایک محتاط اور آخرت رُخی زندگی گزارتا ہے جس سے اُس میں یقین، عاجزی اور محاسبہ جیسی اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں۔ منفی رویہ یہ ہے کہ دنیا کی یہ زندگی ہی فقط زندگی ہے۔ اِس کے بعد کچھ نہیں اور ...