دیوار چین
#عجائباتِ ارض
قسط نمبر 1 دیوارِ چین
مصنف :- طلحہ سعید الکیمیاء
دیوارِچین پر مختصر نوٹ
دنیا میں بے شمار عجوبے موجود ہیں... ہماری زمین پر ہی موجود عجائبات کا اگر ذکر کیا جائے تو ہمیں ہزاروں سال کی زندگی انہیں سمجھے کے لیے چاہیے... باقی کائنات کے مکمل عجائب کا ذکر کرنا تو ناممکن ہے...
جن کو دیکھ کر موجودہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے...
انہیں عجائبات میں ایک عجوبہ دیوارِ چین ہے... کچھ فرق نہیں پڑتا کہ آپ کی نظر کتنی تیز ہے یا آپ کی دور بین کتنا دور تک دیکھ سکتی ہے...آپ اسے مکمل ایک ہی مقام پر کھڑے رہ کر نہیں دیکھ سکتے...
دیوارِ چین لگ بھگ اکیس سے بائیس ہزار کلومیٹر تک پھیلا ایک کمال کا سٹرکچر ہے... یہ انسانی دنیا میں اب تک کا سب سے بڑا کنسٹرکشن پروجیکٹ تھا... چین دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے... یہی دیوارِ چین برف کے ریگستانوں سے لے کر yellow sea کے ساحل تک پھیلی ہوئی ہے... یہ دیوار مٹی کی مضبوط ترین اینٹوں سے بنائ گئی ہے... اس کی اونچائی سات میٹر تک ہے... اور اس کی چوڑائی 5 میٹر جبکہ لمبائی ہزاروں کلو میٹر تک ہے...
اس دیوار میں دشمن پر تیر چلانے کے لیے بے شمار تیر خانے بنائے گئے ہیں... جبکہ سپاہیوں کی دن رات پہرےداری میں آرام کے لیے لاکھوں واچ ٹاورز بھی تعمیر کیے گئے ہیں... پہلی گریٹ وال آف چائنہ دوہزار سال پہلے خانہ بدوشوں سے چائنیز امپائرز کو بچانے کے لیے مٹی سے بنائی گئی... پہلے مٹی کی ایک پرت رکھی جاتی پھر اس کے اوپر سوکھی گھاس کی پرت اور پھر اوپر مٹی کی پرت... اس طرح یہ گریٹ وال اپنا وجود ہزاروں سالوں سے اپنا وجود برقرا رکھے ہوئے ہے... اس وقت یہ دیوار ریگستانی مٹی سے بنائی گئی جو کہ کیلشیم کاربونیٹ اور مگنیشیئم جیسے ایلیمنٹس سے بھر پور تھی....لیکن جب جنگیں مزید بڑھنے لگیں تو مٹی کی یہ دیوار کمزور ثابت ہونا شروع ہوگئی... منگولین خانہ بدوشوں نے چائنیز کو یہ دیوار مزید مضبوط بنانے کے لیے مجبور کردیا... اس کے بعد اسے مٹی کی اینٹوں سے بنایا گیا... یہ اینٹیں سینکڑوں ڈگری سیلسیئس تک کے ٹمپریچر میں پکائی گیئں... ان اینٹوں کا وزن عام اینٹوں سے پانچ سے چھ گناہ زیادہ ہوتا تھا...
منگولیا میں زیادہ سردی ہونے کی وجہ سے وہاں کے لوگ کھیتی باڑی نہیں کرسکتے تھے.... کیونکہ وہاں گروتھ سیزن بہت کم ہوتا تھا... اس لیے وہ چائنہ کا رخ کرتے اور چینیوں سے ان کی خوراک چھین لیتے... اور سینکڑوں لوگوں کو مار بھی دیا کرتے تھے... جس کی وجہ سے چائنیز امپائرز کو بچانے کے لیے یہ دیوار بنائی گئی... اور یہی اس کا ایک واحد حل تھا.... خانہ بدوش حضرات بہت زیادہ جنگجو ہوتے تھے... ان کے پاس ایک بہت خطرناک ہتھیار ہوا کرتا تھا.... جسے انہوں نے خود ڈیزائن کر رکھا تھا...
1515ء میں منگولیئن خانہ بدوشوں نے گریٹ چائنہ وال پر حملہ شروع کردیا اور چائنہ کے دارالحکومت بیجنگ کے آس پاس پہنچ گئے... وہ بہت پھرتیلے جنگجو ہوا کرے تھے...
دس لاکھ سے زیادہ مزدور حملے کے بعد دیوار بنانے کے کام میں لگائے گئے... اور اس دیوار کو بنانے کے لیے چاولوں کے پانی میں ریت اور پیسے ہوئے پتھروں سے سیمنٹ تیار کر کے لگایا گیا... جو واقعی ایک کمال کی مضبوطی والا سٹرکچر ٹھہرا...
چین کی آرمی ہزاروں سالوں سے ہی ٹیکنالوجی اور آرکیٹیکچر میں کمال مہارت رکھتی ہے... دیوارِ چین ہی اس دور میں چینیوں کی طاقت کے مظاہرے کے لیے کافی تھی...
Comments
Post a Comment