آپ جو کچھ بولتے ہیں ویسا سوچتے بھی ہیں
آپ جو کچھ بھی بولتے ہیں وہ آپ کے سوچنے کے انداز پر بھی اثر کرتا ہے- فلسفے کی پیدائش سے اب تک لوگ انسانی فطرت کے بارے میں سوال اٹھاتے رہے ہیں- اس تصور پر بہت عرصے سے مختلف شعبوں کے ماہرین میں بحث ہوتی آ رہی ہے کہ ہم سب ایک طرح سے ہی سوچتے ہیں کیونکہ ہم تمام ایک ہی نوع سے تعلق رکھتے ہیں- لیکن اب لسانیات کے ماہرین اور نیورسائنٹسٹ اس مسئلے پر سائنسی تحقیق کر رہے ہیں- اگرچہ اس بارے میں سائنس دانوں میں مکمل اتفاق رائے نہین ہے لیکن اس بات کے آثار ضرور ملے ہیں کہ زبان صرف معلومات کے تبادلے کا ٹول ہی نہیں ہے- زبان کے استعمال سے ہمارے دماغ کو سوچنے کا ایک مخصوص فریم ورک ملتا ہے جس سے ہم حقائق کو پہچانتے ہیں- سائنس دانوں نے تجربات سے یہ ثابت کیا ہے کہ ایک ہی مظہر کو مختلف کلچرز میں مختلف طریقے سے محسوس کیا جاتا ہے جس کی بڑی وجہ یہ سمجھی جاتی ہے کہ مختلف زبانوں میں ایک ہی شے کے نام مختلف ہوتے ہیں-
یہ مفروضہ کہ آپ کی زبان آپ کے احساسات پر بھی اثر انداز ہوتی ہے Whorfianism کہلاتا ہے- اسے لسانی اضافیت بھی کہا جا سکتا ہے- اس مفروضے کے قائل ماہرین کا کہنا ہے کہ آپ صرف انہی اشیا کا ادراک کر سکتے ہیں جن کے پہچاننے کے لیے آپ کی زبان میں الفاظ موجود ہیں- مثال کے طور پر رنگوں کے احساس کو ہی لیجیے- رنگوں کا سپیکٹرم مسلسل یعنی continuous ہے- آپ جو رنگ دیکھ سکتے ہیں ان کا انحصار روشنی کی ویوو لنگتھ پر ہوتا ہے- ایک عام انسان دس لاکھ کے قریب مختلف رنگ دیکھ سکتا ہے- لیکن کچھ زبانوں میں رنگوں کے نام انتہائی محدود ہیں- انگریزی میں رنگوں کے گیارہ نام موجود ہیں اور روسی زبان میں بارہ- لیکن 'دانی' زبان میں رنگوں کے لیے صرف دو نام موجود ہیں- اس زبان میں ٹھنڈے رنگوں کے لیے لفظ 'ملی' اور گرم رنگوں کے لیے لفظ 'مولا' استعمال ہوتا ہے- ظاہر ہے کہ 'دانی' زبان بولنے والے لوگ وہ تمام رنگ دیکھ سکتے ہیں جو کہ انگریزی زبان بولنے والے دیکھتےہیں- لیکن 'دانی' بولنے والے ان رنگوں کو الگ الگ بیان نہیں کر سکتے- اس کے برعکس روسی زبان میں نیلے رنگ کے دو شیڈز کے لیے الگ الگ الفاظ ہیں- انگریزی بولنے والے ان رنگوں کو 'ہلکا نیلا' اور 'گہرا نیلا' کہیں گے
زبان کے اثرات صرف رنگوں تک ہی محدود نہیں ہیں- لوگ وقت کو کیسے محسوس کرتے ہیں اس پر بھی زبان اور الفاظ کا اثر پڑتا ہے- انگریزی بولنے والے وقت کو عموماً تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں- ماضی، حال، اور مستقبل- نیو گینی کے علاقے میں ایک زبان بولی جاتی ہے جسے 'یماس' کہتے ہیں- اس زبان میں ماضی کی چار قسمیں ہیں- ان الفاظ کے استعمال سے ماضی قریب، ماضی بعید، ان ان کے درمیان کے واقعات کو الگ الفاظ دیے جا سکتے ہیں-
عمومی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ زبان محض الفاظ کے مجموعے کا نام نہیں ہے جنہیں ہم اشیا کی تفصیل بتانے کے لیے استعمال کرتے ہیں- الفاظ ہمارے احساسات، سوچ، اور توجہ کے لیے ایک قسم کے فلٹر کا کام کرتے ہیں-
کچھ لوگ Whorfianism پر اعتراضات بھی کرتے ہیں- اب ہم نیوروسائنس اور دماغ کی امیجنگ کی ٹیکنالوجی کی مدد سے Whorfianism کے مفروضات کو معروضی طور پر ٹیسٹ کرنے کے قابل ہو چکے ہیں-
ترجمہ : قدیر قریشی اینڈ دانش بیگ
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1864036330395283&id=693504594115135
Comments
Post a Comment